ایران اس دورمیں کبھی واپس نہیں جائے گا جس کی دشمن کو آرزو ہے:آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای
242
M.U.H
28/09/2026
ایران اس دورمیں کبھی واپس نہیں جائے گا جس کی دشمن کو آرزو ہے: آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای
تہران:رہبر انقلاب اسلامی اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر آیت اللہ العظمی سید مجتبی حسینی خامنہ ای نے پہلی مسلط کردہ جنگ اورملت ایران کے ہمیشہ باقی رہنے والےآٹھ سالہ دفاع کے آغاز کے ایام کی سالگرہ کی مناسبت سے اپنے پیغام میں، ایران کو پسماندگی، ذلت وخواری، وابستگی بدنامی اور انقلاب کے پہلے عشرے میں، مسلط کردہ جنگ کے ایام میں واپس لے جانے کی تسلط پسند طاقتوں کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، فرمایا ہے کہ ان کی وسیع تر کوششوں کے برخلاف، اسلامی نظام، پہلے سے زیادہ ثمربخش اور طاقتور ہوکر،زیادہ بلند آواز اور پرواز کے ساتھ، ققنس کی طرح اٹھا اور اس نظام کی یہ خاصیت، دشمن کے پیدا کردہ بعد کے حوادث میں بھی جاری رہی اور اب یہ ققنس، دشمن کے دباؤ بالخصوص دو مسلط کردہ جنگوں میں اتنا بڑا ہوچکا ہے کہ اس کی پرواز کے سائے دشمن کی سرزمینوں پر بھی پڑنے لگے ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے محاذ استقامت کی عظیم ہستی، امیر عرب، شہید سید حسن نصراللہ کی شہادت کی دوسری برسی کی مناسبت سے اور اسی طرح حزب اللہ کے موجودہ سربراہ جناب شیخ نعیم قاسم کی عاشورائی مجاہدت اور مقاومت کی تعریف وتمجید کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان کے یہ ایام، سبھی مجاہدین مقاومت کے لئے ممتاز اور پرافتخار ایام ہیں اور ان کے لئے جنھوں نے صیہونی دشمن اور تسلط پسندوں نیز بدخواہوں کے جھوٹے وعدوں سے سے اپنی امید وابستہ کرکھی ہے، ان کے لئے ذلت وخواری کے ایام ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی کے پیغام کے بعض اہم ترین محور مندرجہ ذیل ہیں:
- جن ایام میں اس قوم کے دشمن نے اس پر اپنے زخریدوں کو مسلط کررکھا تھا اور جدید استعمار پرعمل کررہا تھا، انقلاب آنے اور پرچم اسلام لہرانے نیز مسلط کردہ جنگ میں جہاد کی برکت سے، وہ ایام اس قوم کے افتخار ایام میں تبدیل ہوگئے اور اس کے خاتمے کے اڑتیس برس گزرنے کے بعد وہ حوادث اور جو سچی روایات باقی ہیں، ان میں سے ہرایک، عبادت، شجاعت، مقاومت، اخلاق اور انسانیت کے درس سے مملو ہے اور ہمارے ملک کی تاریخ کے آسمان پر درخشاں ستاروں کی طرح ضوفگن ہے۔
- ان ایام میں تسلط پسند نظام کے حملوں کے آغاز میں، بہت سے خطرات کے مقابلے میں، ہمیں طاغوتی نظام سے وراثت میں تہی دستی ملی تھی، لیکن حق کی آواز بلند کرنے کی برکت اور نصرت الہی سے اب وہ ایام آگئے ہیں کہ خود جارح تسلط پسند اور ان کے حلقہ بگوش غازیان اسلام کے حملوں پر پناہ گاہ ڈھونڈتے ہیں اور جنگ بند کرنے کے لئے التماس کرتے ہیں۔
- آج بہت سے لوگ ہمیں دنیا کی چوتھی بڑی طاقت سمجھتے ہیں۔ البتہ وہ دنیاوی معیارات کے مطابق یہ کہتے ہیں۔ لیکن خدائی معیارات کے مطابق، جو ملک خود کو عترت اطہار صلوات اللہ وسلامہ علیہم سے وابستہ سجھتا ہے اور اس کےعوام کی اکثریت ان اعلی مرتبت ہستیوں سے قلبی وابستگی رکھتی ہے اور قیام حق میں اس کو کوئی خوف نہیں ہے، وہ دنیا کی پہلی بڑی طاقت ہے۔
- ان دنوں، ایران کے جنوب میں واقع دو سمندر، دشمن افواج کی جولانگاہ تھے، لیکن آج آبنائے ہرمز کے محافظین اور دلیرغازیوں نے ان پر جو دردناک وار لگائے ہیں،وہ بحیرہ عرب سے آگے نہیں آتے اور جب بھی انھوں نے یہ خطرہ مول لیا ہے، سخت نقصان اٹھایا ہے اور عنقریب بحیرہ عرب بھی ان سے خالی کرالیا جائے گا۔
-ایک زمانہ وہ تھا کہ تسلط پسندوں نے نفسیاتی کارروائیوں اور رعب ووحشت کے ذریعے، دارالحکومت کی سڑکیں خالی کردی تھیں اور اس قوم کی خومختاری اورحریت پسندی کے خلاف فوجی بغاوت کی اور پھر 25 سال تک اس مملکت کی دولت وثروت کی لوٹ مار کی۔ لیکن آج سات مہینے سے ہمارے ہموطن پورے ملک میں، سڑکوں اور چوراہوں پر ذمہ داری کے ساتھ موجود ہیں اور اپنے ان اجتماعات سے سپاہیان اسلام کی تقویت قلب کے اسباب فراہم کررہے ہیں اور دشمن کو خوف وہراس میں غرق کررہے ہیں۔ اور ایسی حالت میں کہ 3 کروڑ سے زیادہ لوگوں نے جاں نثاری کے لئے اپنی آمادگی کا اعلان کررکھا تھا، جب دوبارہ ان کے آنے کا اعلان کیا گیا تو صرف 100 منٹ کے اندر، 5 لاکھ سے زائد لوگوں نے یہ گنجائش پوری کردی۔
- وہ گزشتہ ایام جن کی واپسی کی ہمارے دشمن کو آرزو ہے، چلے گئے اور کبھی واپس نہیں آئيں گے۔
-لبنان کے یہ ایام، سبھی مجاہدین مقاومت کے لئے ممتاز اور پرافتخار ایام ہیں اور ان کے لئے جنھوں نے صیہونی دشمن اور تسلط پسندوں نیز بدخواہوں کے جھوٹے وعدوں سے اپنی امید وابستہ کرکھی ہے، ان کے لئے ذلت وخواری کے ایام ہیں۔ جولوگ شہید سید مقاومت اور سید ہاشم صفی الدین اور موجودہ مجاہدین مقاومت کے برخلاف ہیں، وہ بہت جلد، تاریخ کے صفحات جیسے ہی پلٹے جائيں گے، مدفون اور فراموش ہوجائیں گے اور آئندہ جب بھی انہیں یاد کیا جائے گا، ان کا نام برائی، بے تدبیری اور خیانت کے لئے لیا جائے گا۔